اشاعتیں

امریکی ڈاکو اور اتباع ہے سنت

تصویر
 م امریکہ ہماری جماعت گئی شکاگو میں ایک مسجد میں ہم گئے دیکھا مسجد میں خیمہ لگا ہوا ہے میں بڑا حیران ہوا کہ یہ خیمہ کیوں لگا ہوا ہے تو پتہ چلا کہ یہاں اس علاقے کا بہت بڑا بدمعاش تھا سارے علاقے کا وہ مسلمان ہو گیا اور پھر پاکستان آ کر ر تبلیغ میں تین چلے لگائیں تو واپس گیا ہے تو اس نے خیمہ لگایا ہوا ہے اور روزانہ ا کر اس میں گھنٹہ دو گھنٹہ بیٹھتا ہے کہ میرا نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیمے میں رہا کرتا تھا تو اب میں مستقل تو نہیں رہ سکتا کچھ دیر تو رہوں تاکہ میرا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت و ادا ہو جائے یقین مانی کہ مجھے اتنی شرم ائی کہ دیکھو نئے اسلام قبول کرنے والے کا یہ جذبہ چھوٹا سا خیمہ اتنا سا تھا نام اس نے ابوبکر رکھا ہوا تھا یہ درد د دو غم نکل گیا کہ ہائے میں کیسے اپنے اللہ کو راضی کروں میری اولاد کیسے اللہ پاک کو راضی کرے یہ محنت ہی ختم ہو گئی نماز پڑھی تو بھی ٹھیک ہے نہیں پڑی تو بھی ٹھیک ہے نہ پڑھنے کی خوشی نہ چھوٹنے کا غم قران پاک کی تلاوت ہو جائے تو خوشی                        کوئی نہیں لے جائے تو غم کوئی نہیں ...

مولوی صاحب کا تبلیغی شخص کو شکوہ

تصویر
 ہمارے مردوں اور عورتوں کو اللہ تعالی نے راستہ بتا دیا ہے اے میرے بندو اور بندیو مجھے سامنے رکھ کر چلو میں ہوں تمہارا خالق اور مالک میں ہوں تمہارا معبود مجھے راضی کرو اللہ پر فدا ہونا ہماری زندگی ہے ایک اللہ کو راضی کرنا ہماری زندگی ہے منڈی بہاؤدین ایک جماعت گئی تو وہاں کے مولوی صاحب کہنے لگے نکل جاؤ تم سب مدرسوں کے مخالف ہو میں نے کہا وہ کیسے کہنے لگے یہ ہمارا تاجر پہلے ہمیں ہزار روپے چندہ دیتا تھا جب سے چلا لگا کر ایا ہے 100 روپے دیتا ہے اچھا بلاتے ہیں جی اس کو بلایا کہا یہ تو نے کیا کیا ہاں جی پہلے جھوٹ پہ کاروبار تھا سود پہ کاروبار تھا جب سے سن کے ایا ہوں جھوٹ بھی حرام سود بھی حرام اب سچ پہ کرتا ہوں تو روٹی بھی مشکل سے پوری ہوتی ہے اس میں سے 100 روپے انہیں دیتا ہوں اگر یہ کہتے ہیں تو پھر وہیں شروع کر دیتا ہوں ان کو دوں گا خود بھی کھاؤں گا یعنی کہ جو اللہ تعالی کے راستے میں وقت لگاتے ہیں اللہ تعالی ان کے دل کی دنیا کو بھی بدل دیتا ہے جس طرح اس شخص پہلے حرام کماتا تھا لیکن جب سے اللہ نے اس کو ہدایت دی اس نے وقت لگایا اللہ کو وقت دیا تو اللہ تعالی نے اس کو ہدایت کا ذریعہ بھی بنا د...

گمراہی کے ماحول میں ایمان کی حفاظت کرنے والے کا واقعہ

تصویر
 1994 میں انگلینڈ میں اجتماع تھا تو میں رات کو فارغ ہو کے باہر نکلا تو ایک نوجوان لڑکا پہرا دے رہا تھا بریڈ فورڈ کا تھوڑا سا تعارف ہوا تو وہ بڑا خوش ہو کر کہنے لگا مجھے تو اپ سے ملنے کا بڑا شوق تھا میں نے کہا تم ادھر کیسے کہنے لگا میں نے تین دن لگائے تھے اللہ تعالی نے میری ساری زندگی بدل دی تو اس نے بات کی بڑی خوبصورتی جو مجھے اج تک یاد ہے کہا جی ان کے پاس ہمیں گمراہ کرنے کے لیے اور نہیں ہے جو کچھ ان کے پاس ہے گمراہی کے جتنے سامان ہیں اسباب ہیں ف**** کے عریانی کے بے پردگی کے عورت مرد کے ملاپ کے یہ پیک ہے اس کے اگے اور ہے کچھ نہیں ہم اس میں توبہ کر کے باہر ا رہے ہیں اب اور کوئی شکل نہیں ہے ان کے پاس ہمیں گمراہ کرنے کے لیے اور ہم اللہ تعالی کے فضل سے اسے ٹھوکر مار کے ا رہے ہیں اور اس بصیرت کے ساتھ ارہے ہیں کہ وہ باطل ہے اور یہ حق ہے وہاں کچھ نہیں یہاں سب کچھ ہے

مولانا الیاس اور فکر امت

تصویر
مولانا الیاس رحمت اللہ علیہ نے جب مواطیوں میں درس شروع کیا اور وہ مارتے تھے گالیاں دیتے تھے علماء رحمت اللہ نے کہا کہ مولوی الیاس نے علم کو ذلیل کر دیا چونکہ کام وجود میں نہیں تھا کسی کو پتہ نہیں تھا علماء کہتے ہیں کہ یہ علم کی ذلت ہے مولانا الیاس رحمت اللہ نے کہا ہائے میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم تو ابو جہل سے مار کھاتا تھا میں مسلمان کی منت کر کے ذلیل کیسے ہو سکتا ہوں میں تو اس اللہ کی کلمہ کے لیے ذلیل ہو کر عزت حاصل کرنا چاہتا ہوں کہ اللہ کے کلمہ کے لیے ذلت بھی عزت ہے

چنگیز و ہلاکو خان کا ذکر

تصویر
  چنگیز خان نے 40 شہر ایسے تباہ کر دیے جن کی ابادی 30 لاکھ سے تجاوز تھی اور ایسے تلوار چلائی جیسے بکریوں پر تلوار چلائی جاتی ہیں لیکن وہ اپنی موت اپ مر گیا اس کو دنیا کی کوئی عدالت سزا نہیں دے سکی اس کا پوتا منگو خان اپنی موت اپ مر گیا ہلاکو خان اپنی موت اپ مر گیا ان پر اللہ تعالی کی تلوار نہ برسی اور نہ ہی اللہ تعالی کے عذاب کا کوڑ کوڑا برسا اج کے فرعون ہوں یا موسی علیہ السلام کا فرعون ہو اللہ تعالی ان کی گردنوں کو ایک دن مروڑ دے گا اللہ تعالی نے بتایا ہے کہ میرے قانون کی خلاف ورزی پر یا میرے قانون کی پابندی پر جزا سزا کا ایک پورا نظام مقرر ہے اس میں بھی کوئی سقم نہیں ہے 

🕋گناہ کیسے چھوڑیں؟ | سچی توبہ کا آسان طریقہ اور اسلامی رہنمائی

انسان خطا کا پتلا ہے۔ ہر انسان سے گناہ ہو جاتا ہے، لیکن کامیاب وہ ہے جو اپنے گناہ پر شرمندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے۔ اسلام ہمیں مایوسی نہیں بلکہ امید سکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ سب گناہ معاف فرما دیتا ہے” (سورۃ الزمر: 53)۔ یہ آیت اس بات کا واضح اعلان ہے کہ چاہے گناہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، سچی توبہ کے ذریعے معافی ممکن ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “ہر انسان خطاکار ہے اور بہترین خطاکار وہ ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں” (سنن الترمذی)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ کا ہو جانا انسان کی کمزوری ہے، مگر بار بار توبہ کرنا اس کی طاقت اور ایمان کی علامت ہے۔ اس لیے اگر کسی سے گناہ بار بار ہو رہا ہے تو اسے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ہر بار اللہ کے حضور جھک جانا چاہیے۔ گناہ سے چھٹکارا پانے کے لیے سب سے پہلا قدم سچی توبہ ہے۔ توبہ کے تین بنیادی ارکان ہیں: (1) گناہ پر ندامت، (2) فوراً گناہ چھوڑ دینا، اور (3) آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ۔ اگر گناہ کا تعلق کسی بندے کے حق سے ہو تو اس کا حق واپس کرنا ...

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا وعدہ سچا

تصویر
 میرے بھائیو یرموک کی لڑائی کا میدان ایک نوجوان لڑکا ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہہ رہا ہے اے ابو عبیدہ میںں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس جا رہا ہوں تمہیں کوئی پیغام پہنچانا ہے تو بتاؤ جذبے دیکھو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ رونے لگے اور کہا کہ اے میرے بھائی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام دے دینا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو وعدے ہمارے ساتھ کیے تھے ہم نے ان کو سچ پایا اور اللہ تعالی کی مدد اپنی انکھوں سے دیکھ لی مر رہے ہیں اور جنت کو جا رہے ہیں ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کے بھتیجے کو اٹھا کے لایا گیا زخمی کیا پڑے ہیں ان کے چچا بڑے صحابی تھے دیکھا تو رونے لگے اور کہنے لگے یا اللہ میرے بھتیجے کو ٹھیک کر دیں بھتیجے کو تھوڑا سا ہوش ایا تو کہنے لگا اے چچا میرے لیے دعا مت کرو وہ دیکھو حور مجھے پکار رہی ہے میرے لیے دعا مت کرو یہ وہ لوگ ہیں جو نیک اعمال کر کے اخرت والے بن گئے