اشاعتیں

poetry Iqbal ghazal Muhammad Iqbal poetry نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

🌿علامہ اقبال کی فکر انگیز غزل

 نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے جہاں ہے تیرے لیے، تو نہیں جہاں کے لیے رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تک ترا سفینہ کہ ہے بحرِ بے کراں کے لیے نشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو ترس گئے ہیں کسی مردِ راہ داں کے لیے بس ایک جلوۂ دیدار ہے طلب جس کو نہ تُو جہاں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے کھلے ہیں سب کے لیے بابِ فیض اُس کے مگر وہ شرط ہے کہ کوئی ہو امیدواں کے لیے