مولوی صاحب کا تبلیغی شخص کو شکوہ
ہمارے مردوں اور عورتوں کو اللہ تعالی نے راستہ بتا دیا ہے اے میرے بندو اور بندیو مجھے سامنے رکھ کر چلو میں ہوں تمہارا خالق اور مالک میں ہوں تمہارا معبود مجھے راضی کرو اللہ پر فدا ہونا ہماری زندگی ہے ایک اللہ کو راضی کرنا ہماری زندگی ہے منڈی بہاؤدین ایک جماعت گئی تو وہاں کے مولوی صاحب کہنے لگے نکل جاؤ تم سب مدرسوں کے مخالف ہو میں نے کہا وہ کیسے کہنے لگے یہ ہمارا تاجر پہلے ہمیں ہزار روپے چندہ دیتا تھا جب سے چلا لگا کر ایا ہے 100 روپے دیتا ہے اچھا بلاتے ہیں جی اس کو بلایا کہا یہ تو نے کیا کیا ہاں جی پہلے جھوٹ پہ کاروبار تھا سود پہ کاروبار تھا جب سے سن کے ایا ہوں جھوٹ بھی حرام سود بھی حرام اب سچ پہ کرتا ہوں تو روٹی بھی مشکل سے پوری ہوتی ہے اس میں سے 100 روپے انہیں دیتا ہوں اگر یہ کہتے ہیں تو پھر وہیں شروع کر دیتا ہوں ان کو دوں گا خود بھی کھاؤں گا یعنی کہ جو اللہ تعالی کے راستے میں وقت لگاتے ہیں اللہ تعالی ان کے دل کی دنیا کو بھی بدل دیتا ہے جس طرح اس شخص پہلے حرام کماتا تھا لیکن جب سے اللہ نے اس کو ہدایت دی اس نے وقت لگایا اللہ کو وقت دیا تو اللہ تعالی نے اس کو ہدایت کا ذریعہ بھی بنا دیا اور جہنم سے بھی اس کو جو ہے چھٹکارا دے دیا کہ یہ اب سچ پہ کام کرتا ہے سچ پہ کاروبار کرتا ہے اسی طرح اللہ تعالی ہمیں حرام کھانے سے کمانے سے سود پر کاروبار کرنے سے بچائے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں