اسلامی تصوف اور سلوک کی حقیقت
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تصوف و سلوک محض شجرِ خیالی، ٹوپی اوڑھنے، خرقہ پہننے، بڑی تسبیح ہاتھ میں رکھنے، عرس منانے، قوالی سننے، وجد و رقص اور نعرہ لگانے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے حصول کے لیے دوسری شرطیں ہیں۔ جن میں سے سرفہرست اتباعِ شریعت ہے جس کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ توحید کا عقیدہ دل میں راسخ ہو اور اتباعِ سنتِ نبوی ﷺ اس کامل درجہ کا ہو کہ بدعت کو مطلق و خلل نہ ہو، شرک و بدعت کی ہر شائبہ سے دوری ہو۔ شیخ کا تعلق اور اس سے دلی عقیدت ضروری ہے، اور اس کی مخالفت مانعِ فیض ہے۔ اس پر قصہ حضرت موسیٰ اور حضرت خضر شاہد ہے۔ پھر پورے خلوص سے ذکرِ الٰہی کی کثرت اور مجاہدہ و ریاضت۔ ان شرائط کے ساتھ منازلِ سلوک دس میں سال میں طے ہوتے ہیں، بشرطیکہ اللہ تعالیٰ کو ایسا منظور ہو۔ تصوف تعلق مع اللہ اور اخذِ حقائق کا نام ہے اور اس کا حصول ایسے اخلاقِ حمیدہ سے مخصوص ہے، جس میں حقوقِ مخلوق سے کُلی اہمیت ...