اشاعتیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا وعدہ سچا

تصویر
 میرے بھائیو یرموک کی لڑائی کا میدان ایک نوجوان لڑکا ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہہ رہا ہے اے ابو عبیدہ میںں حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس جا رہا ہوں تمہیں کوئی پیغام پہنچانا ہے تو بتاؤ جذبے دیکھو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ رونے لگے اور کہا کہ اے میرے بھائی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام دے دینا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو وعدے ہمارے ساتھ کیے تھے ہم نے ان کو سچ پایا اور اللہ تعالی کی مدد اپنی انکھوں سے دیکھ لی مر رہے ہیں اور جنت کو جا رہے ہیں ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کے بھتیجے کو اٹھا کے لایا گیا زخمی کیا پڑے ہیں ان کے چچا بڑے صحابی تھے دیکھا تو رونے لگے اور کہنے لگے یا اللہ میرے بھتیجے کو ٹھیک کر دیں بھتیجے کو تھوڑا سا ہوش ایا تو کہنے لگا اے چچا میرے لیے دعا مت کرو وہ دیکھو حور مجھے پکار رہی ہے میرے لیے دعا مت کرو یہ وہ لوگ ہیں جو نیک اعمال کر کے اخرت والے بن گئے

جہاں بھی جاؤ موت آ کر رہے گی

تصویر
 روایت ہے خسیمہ رحمت اللہ علیہ سے کہ ملک الموت ایک با ر حضرت سلیمان علیہ السلام کی مجلس میں ائے اور ایک شخص کی طرف تعجب سے کچھ دیر تک دیکھتے رہے جب ملک الموت چلے گئے اس طرح اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے پوچھا یہ کون شخص ہے اپ نے فرمایا ملک الموت ہے اس نے کہا وہ میری طرف اس طرح دیکھتے ہیں کہ گویا میری روح قبض کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اپ نے فرمایا تو کیا چاہتا ہے اس نے کہا مجھے ہندوستان میں پہنچا دیجیے اپ نے ہوا کو حکم دیا اس کو اٹھا کر ہندوستان میں رکھ دے ہوا نے اس کو ہندوستان میں پہنچا دیا پھر ملک الموت حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس ائے اپ نے پوچھا تم کیوں اس شخص کو غور سے دیکھتے تھے ہاں مجھے تعجب اس بات سے تھا کہ اللہ تعالی کا حکم میرے پاس پہنچا ہے اس کی روح ہندوستان میں قبض کروں اور یہ اپ کے پاس بیٹھا ہے یعنی کہ جہاں بھی چلے جاؤ موت ا کر ہی رہے گی

اسلام میں میاں بیوی کے حقوق و فرائض | خوشگوار ازدواجی زندگی کا مکمل رہنما

تصویر
 اسلام نے ازدواجی زندگی کو نہایت مقدس اور بابرکت رشتہ قرار دیا ہے۔ نکاح کے ذریعے مرد اور عورت ایک دوسرے کے لیے حلال ہوتے ہیں اور ایک نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی" (سورۃ الروم: 21) یہ آیت واضح کرتی ہے کہ میاں بیوی کا تعلق صرف جسمانی نہیں بلکہ محبت، سکون اور رحمت پر مبنی ہوتا ہے۔ 🔹 شوہر کے حقوق: اسلام میں بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنے شوہر کی جائز باتوں میں اطاعت کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے" (ترمذی: 1159) اس حدیث سے شوہر کے مقام کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے، تاہم اس کا مطلب ہرگز ظلم برداشت کرنا نہیں بلکہ حسنِ سلوک کے ساتھ زندگی گزارنا ہے۔ 🔹 بیوی کے حقوق: اسی طرح شوہر پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ...

🌸 حیض و نفاس کے اہم مسائل — آسان اور مستند رہنمائی

تصویر
  📌 حیض (ماہواری) کے مسائل حیض اس خون کو کہتے ہیں جو بالغ عورت کو مخصوص دنوں میں آتا ہے۔ کم سے کم مدت: 3 دن (72 گھنٹے) زیادہ سے زیادہ مدت: 10 دن اگر خون 3 دن سے کم آئے تو وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ (بیماری کا خون) ہوتا ہے۔ اور اگر 10 دن سے زیادہ آئے تو 10 دن حیض شمار ہوں گے، باقی استحاضہ ہوگا۔ 📖 حوالہ: ہدایہ، کتاب الطہارة در مختار مع رد المحتار، جلد 1 📌 نفاس (بچے کی پیدائش کے بعد خون) یہ وہ خون ہے جو بچے کی پیدائش کے بعد آتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ مدت: 40 دن اگر خون 40 دن سے زیادہ آئے تو: ➤ صرف 40 دن نفاس شمار ہوں گے ➤ اس کے بعد والا خون استحاضہ ہوگا 📖 حوالہ: فتاویٰ عالمگیری، جلد 1 بہارِ شریعت، ن 📌 استحاضہ کیا ہے؟ استحاضہ بیماری کا خون ہوتا ہے۔ اس حالت میں: نماز ادا کرنا لازم ہے روزہ بھی رکھا جائے گا ہر نماز کے وقت نیا وضو کرنا ہوگا 📖 حوالہ: صحیح بخاری، حدیثِ فاطمہ بنت ابی حبیشؓ مسلم شریف 📌 حیض و نفاس میں عبادات کے احکام حیض اور نفاس کی حالت میں: ❌ نماز معاف (قضا بھی نہیں) ❌ روزہ بعد میں قضا کرنا ہوگا ❌ قرآن کو ہاتھ لگانا منع ❌ مسجد میں داخلہ منع ✔️ ذکر، دعا، درود جائز 📖 حوالہ: ص...

موضوع تصوف کا علم

تصویر
  *📝✨موضوع علم تصوف* کسی علم کے موضوع کا تعین اس کے عوارضاتِ ذاتیہ کی بحث سے ہوتا ہے پس علم تصوف کا موضوع مکلفین کے احوال ہیں مگر مطلقاً احوال نہیں بلکہ اس حیثیت سے کہ کونسا فعل قرب الٰہی کا سبب بنتا ہے اور کونسا فعل اللہ سے دوری کا موجب۔ جیسا کہ علم طب میں موضوع بدن انسانی ہے لیکن مطلقاً بدن نہیں بلکہ مِنْ حَیْثُ الصِّحَّتِ وَالْمَرَضِ (صحت اور بیماری کی حیثیت سے)۔ پس علمِ تصوف میں بھی احوال مکلفین کے متعلق اللہ تعالیٰ کے قرب و بُعد کی حیثیت سے بحث ہوگی۔  *علمِ تصوف کی تعریف اور غایت* ھُوَ عِلْمٌ تُعْرَفُ بِہٖ اَحْوَالُ تَزْکِیَۃِ النُّفُوْسِ وَ تَصْفِیَۃِ الاَخْلَاقِ وَ تَعْمِیْرِ الْبَاطِنِ وَالظَّاھِرِ لِنَیْلِ السَّعَادَۃِ الْاَبَدِیَّۃِ وَیَحْصِلُ بِہٖ اِصْلَاحُ النَّفْسِ وَالمَعْرِفَۃُ وَرَضَا ئُ الرَّبِّ وَمَوْضُوْعُہُ التَزْکِیَۃُ والتَّصْفِیَۃُ وَالتَّعْمِیْرُ الْمَذْکُوْرَاتِ وَغَایَتُہ’‘ نَیْل’ السَّعَادَۃِ الْاَبَدِیَّۃِ۔ تصوف وہ علم ہے جس سے تزکیہ نفوس اور تصفیہ اخلاق اور ظاہر و باطن کی تعمیر کے احوال پہچانے جاتے ہیں۔ تاکہ سعادت ابدی حاصل ہو نفس کی اصلاح ہواور ر...

اسلامی روشنی: قرآن و حدیث کی روشنی میں ہدایت کا نور

تصویر
  اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: “اللّٰهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ” (سورۃ النور: 35) ترجمہ: “اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔” یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اصل روشنی اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے، اور وہی انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ 🌙 قرآن مجید: نورِ ہدایت قرآن پاک کو بھی “نور” کہا گیا ہے کیونکہ یہ انسان کو جہالت، گمراہی اور برائی کے اندھیروں سے نکال کر علم، ایمان اور نیکی کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: “قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللّٰهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ” (سورۃ المائدہ: 15) یہ نور دراصل قرآن ہے، جو ہر دور کے انسان کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہےر حضرت محمد ﷺ کی ذات مبارکہ بھی ہدایت کا روشن چراغ ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت، اخلاق اور تعلیمات انسان کے لیے عملی نمونہ ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے: “میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم ان کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے: اللہ کی کتاب میری سنت” 💫 نورِ ایمان کی اہمیت دل کا نور ایمان سے پیدا ہوتا ہے۔ جب انسان اللہ پر کامل یقین رکھتا ہے، اس کے احکام پر عمل کرتا ہے، تو...

سچائی کی طاقت – ایک ایمان افروز واقعہ

تصویر
ایک مرتبہ ایک نوجوان اپنی ماں سے اجازت لے کر علم حاصل کرنے کے لیے دوسرے شہر جا رہا تھا۔ اس کی ماں نے اس کے کپڑوں میں چالیس دینار سی کر رکھ دیے اور رخصت کرتے وقت ایک نصیحت کی: “بیٹا! کبھی جھوٹ نہ بولنا، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔” نوجوان نے وعدہ کیا اور سفر پر روانہ ہو گیا۔ راستے میں ڈاکوؤں کا ایک گروہ قافلے پر حملہ آور ہو گیا۔ انہوں نے تمام لوگوں کا مال لوٹنا شروع کر دیا۔ جب اس نوجوان کی باری آئی تو ایک ڈاکو نے پوچھا: “تمہارے پاس کیا ہے؟” نوجوان نے فوراً جواب دیا: “میرے پاس چالیس دینار ہیں۔” ڈاکو نے حیران ہو کر اسے مذاق سمجھا اور چھوڑ دیا۔ پھر وہ نوجوان کو اپنے سردار کے پاس لے گئے۔ سردار نے بھی یہی سوال کیا، اور نوجوان نے وہی جواب دیا۔ جب اس کی تلاشی لی گئی تو واقعی اس کے کپڑوں میں سے چالیس دینار نکل آئے۔ یہ دیکھ کر ڈاکوؤں کا سردار حیران رہ گیا اور پوچھا: “تم نے سچ کیوں بولا؟ تم جھوٹ بول سکتے تھے!” نوجوان نے جواب دیا: “میں نے اپنی ماں سے وعدہ کیا تھا کہ کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا، اور میں اپنے وعدے کو نہیں توڑ سکتا۔” یہ سن کر ڈاکوؤں کے سردار پر گہرا اثر ہوا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ ...