🌸 حیض و نفاس کے اہم مسائل — آسان اور مستند رہنمائی

 

📌 حیض (ماہواری) کے مسائل

حیض اس خون کو کہتے ہیں جو بالغ عورت کو مخصوص دنوں میں آتا ہے۔

کم سے کم مدت: 3 دن (72 گھنٹے)

زیادہ سے زیادہ مدت: 10 دن

اگر خون 3 دن سے کم آئے تو وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ (بیماری کا خون) ہوتا ہے۔

اور اگر 10 دن سے زیادہ آئے تو 10 دن حیض شمار ہوں گے، باقی استحاضہ ہوگا۔

📖 حوالہ:

ہدایہ، کتاب الطہارة

در مختار مع رد المحتار، جلد 1

📌 نفاس (بچے کی پیدائش کے بعد خون)

یہ وہ خون ہے جو بچے کی پیدائش کے بعد آتا ہے۔

زیادہ سے زیادہ مدت: 40 دن

اگر خون 40 دن سے زیادہ آئے تو:

➤ صرف 40 دن نفاس شمار ہوں گے

➤ اس کے بعد والا خون استحاضہ ہوگا

📖 حوالہ:

فتاویٰ عالمگیری، جلد 1

بہارِ شریعت، ن

📌 استحاضہ کیا ہے؟

استحاضہ بیماری کا خون ہوتا ہے۔ اس حالت میں:

نماز ادا کرنا لازم ہے

روزہ بھی رکھا جائے گا

ہر نماز کے وقت نیا وضو کرنا ہوگا

📖 حوالہ:

صحیح بخاری، حدیثِ فاطمہ بنت ابی حبیشؓ

مسلم شریف

📌 حیض و نفاس میں عبادات کے احکام

حیض اور نفاس کی حالت میں:

❌ نماز معاف (قضا بھی نہیں)

❌ روزہ بعد میں قضا کرنا ہوگا

❌ قرآن کو ہاتھ لگانا منع

❌ مسجد میں داخلہ منع

✔️ ذکر، دعا، درود جائز

📖 حوالہ:

صحیح بخاری

صحیح مسلم

📌 عادت (روٹین) کا مسئلہ

اگر کسی عورت کی حیض کی ایک مقررہ عادت ہو (مثلاً 7 دن):

زیادہ خون آئے → صرف عادت کے دن حیض، باقی استحاضہ

کم خون آئے → پھر بھی عادت کے مطابق حکم لگے گا

📖 حوالہ:

در مختار

فتاویٰ رضویہ

✨ خلاصہ

حیض 3 سے 10 دن تک ہوتا ہے

نفاس زیادہ سے زیادہ 40 دن ہوتا ہے

40 دن کے بعد والا خون = استحاضہ

استحاضہ میں عبادات جاری رہتی ہیں

اسلام نے عورتوں کو ان ایام میں آسانی دی ہے، لیکن صحیح علم ہونا بہت ضروری ہے تاکہ عبادات درست طریقے سے ادا کی جا سکیں۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌌☄️الوداع رمضان…! ایک مومن کے دل کی کیفیت

💕♥️ علامہ اقبال کے بہترین اسلامی اشعار جو دل کو روشن کریں ✨

📅 شوال کے چھ روزے کب رکھے جاتے ہیں؟