سچائی کی طاقت – ایک ایمان افروز واقعہ
ایک مرتبہ ایک نوجوان اپنی ماں سے اجازت لے کر علم حاصل کرنے کے لیے دوسرے شہر جا رہا تھا۔ اس کی ماں نے اس کے کپڑوں میں چالیس دینار سی کر رکھ دیے اور رخصت کرتے وقت ایک نصیحت کی:
“بیٹا! کبھی جھوٹ نہ بولنا، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔”
نوجوان نے وعدہ کیا اور سفر پر روانہ ہو گیا۔ راستے میں ڈاکوؤں کا ایک گروہ قافلے پر حملہ آور ہو گیا۔ انہوں نے تمام لوگوں کا مال لوٹنا شروع کر دیا۔ جب اس نوجوان کی باری آئی تو ایک ڈاکو نے پوچھا:
“تمہارے پاس کیا ہے؟”
نوجوان نے فوراً جواب دیا:
“میرے پاس چالیس دینار ہیں۔”
ڈاکو نے حیران ہو کر اسے مذاق سمجھا اور چھوڑ دیا۔ پھر وہ نوجوان کو اپنے سردار کے پاس لے گئے۔ سردار نے بھی یہی سوال کیا، اور نوجوان نے وہی جواب دیا۔ جب اس کی تلاشی لی گئی تو واقعی اس کے کپڑوں میں سے چالیس دینار نکل آئے۔
یہ دیکھ کر ڈاکوؤں کا سردار حیران رہ گیا اور پوچھا:
“تم نے سچ کیوں بولا؟ تم جھوٹ بول سکتے تھے!”
نوجوان نے جواب دیا:
“میں نے اپنی ماں سے وعدہ کیا تھا کہ کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا، اور میں اپنے وعدے کو نہیں توڑ سکتا۔”
یہ سن کر ڈاکوؤں کے سردار پر گہرا اثر ہوا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ بولا:
“ایک تم ہو جو اپنی ماں کے وعدے کو نہیں توڑتے، اور ایک ہم ہیں جو اللہ کے احکام کو مسلسل توڑتے آ رہے ہیں!”
اسی لمحے اس نے توبہ کر لی، اور اس کے ساتھ اس کے ساتھیوں نے بھی اپنی زندگی بدلنے کا فیصلہ کر لیا۔
“بیٹا! کبھی جھوٹ نہ بولنا، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔”
نوجوان نے وعدہ کیا اور سفر پر روانہ ہو گیا۔ راستے میں ڈاکوؤں کا ایک گروہ قافلے پر حملہ آور ہو گیا۔ انہوں نے تمام لوگوں کا مال لوٹنا شروع کر دیا۔ جب اس نوجوان کی باری آئی تو ایک ڈاکو نے پوچھا:
“تمہارے پاس کیا ہے؟”
نوجوان نے فوراً جواب دیا:
“میرے پاس چالیس دینار ہیں۔”
ڈاکو نے حیران ہو کر اسے مذاق سمجھا اور چھوڑ دیا۔ پھر وہ نوجوان کو اپنے سردار کے پاس لے گئے۔ سردار نے بھی یہی سوال کیا، اور نوجوان نے وہی جواب دیا۔ جب اس کی تلاشی لی گئی تو واقعی اس کے کپڑوں میں سے چالیس دینار نکل آئے۔
یہ دیکھ کر ڈاکوؤں کا سردار حیران رہ گیا اور پوچھا:
“تم نے سچ کیوں بولا؟ تم جھوٹ بول سکتے تھے!”
نوجوان نے جواب دیا:
“میں نے اپنی ماں سے وعدہ کیا تھا کہ کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا، اور میں اپنے وعدے کو نہیں توڑ سکتا۔”
یہ سن کر ڈاکوؤں کے سردار پر گہرا اثر ہوا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ بولا:
“ایک تم ہو جو اپنی ماں کے وعدے کو نہیں توڑتے، اور ایک ہم ہیں جو اللہ کے احکام کو مسلسل توڑتے آ رہے ہیں!”
اسی لمحے اس نے توبہ کر لی، اور اس کے ساتھ اس کے ساتھیوں

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں