🌿علامہ اقبال کی فکر انگیز غزل

 نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے

جہاں ہے تیرے لیے، تو نہیں جہاں کے لیے

رہے گا راوی و نیل و فرات میں کب تک

ترا سفینہ کہ ہے بحرِ بے کراں کے لیے

نشانِ راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو

ترس گئے ہیں کسی مردِ راہ داں کے لیے

بس ایک جلوۂ دیدار ہے طلب جس کو

نہ تُو جہاں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے

کھلے ہیں سب کے لیے بابِ فیض اُس کے مگر

وہ شرط ہے کہ کوئی ہو امیدواں کے لیے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

🌌☄️الوداع رمضان…! ایک مومن کے دل کی کیفیت

💕♥️ علامہ اقبال کے بہترین اسلامی اشعار جو دل کو روشن کریں ✨

📅 شوال کے چھ روزے کب رکھے جاتے ہیں؟